Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2263 (سنن الترمذي)

[2263]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (4993)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَقَفَ عَلَی أُنَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ قَالَ فَسَكَتُوا فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ بَلَی يَا رَسُولَ اللہِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَی خَيْرُہُ وَيُؤْمَنُ شَرُّہُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَی خَيْرُہُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آکرٹھہرے اور فرمایا: کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتادوں؟ لوگ خاموش رہے،آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا،ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتادیجئے،آپ نے فرمایا:تم میں بہتروہ ہے جس سے خیرکی امیدرکھی جائے اورجس کے شرسے مامون(بے خوف) رہاجائے اورتم میں سے براوہ ہے جس سے خیرکی امیدنہ رکھی جائے اورجس کے شرسے مامون(بے خوف) نہ رہا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔