Jamia al-Tirmidhi Hadith 2318 (سنن الترمذي)
[2318] إسنادہ ضعیف
الزھري عنعن
والحدیث مرسل
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكَہُ مَا لَا يَعْنِيہِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَكَذَا رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ الزُّہْرِيِّ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ مُرْسَلًا وَہَذَا عِنْدَنَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
علی بن حسین (زین العابدین) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو چھوڑدے جواس سے غیرمتعلق ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-زہری کے شاگردوں میں سے کئی لوگوں نے اسی طرحعن الزہری،عن علی بن حسین عن النبی ﷺ کی سند سے مالک کی حدیث کی طرح مرسلا روایت کی ہے،۲-ہمارے نزدیک یہ حدیث ابوسلمہ کی ابوہریرہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎،۳-علی بن حسین (زین العابدین) کی ملاقات علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔