Jamia al-Tirmidhi Hadith 2333 (سنن الترمذي)
[2333] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (4114)
لیث بن أبي سلیم ضعیف
وحدیث البخاري (6416) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي أَہْلِ الْقُبُورِ فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ قَبْلَ سَقَمِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ قَبْلَ مَوْتِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي يَا عَبْدَ اللہِ مَا اسْمُكَ غَدًا قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ
-عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے بدن کے بعض حصے کوپکڑکرفرمایا: تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک مسافریا راہ گیر ہو،اور اپناشمار قبروالوں میں کرو۔مجاہد کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا:جب تم صبح کرو توشام کا یقین مت رکھو اور جب شام کرو تو صبح کا یقین نہ رکھو،اور بیماری سے قبل صحت و تندرستی کی حالت میں اور موت سے قبل زندگی کی حالت میں کچھ کرلواس لیے کہ اللہ کے بندے! تمہیں نہیں معلوم کہ کل تمہارا نام کیا ہوگا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اعمش نے مجاہد سے،مجاہدنے ابن عمر سے اس حدیث کی اسی طرح سے روایت کی ہے۔اس سند سے بھی ابن عمر سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔