Jamia al-Tirmidhi Hadith 2352 (سنن الترمذي)
[2352] إسنادہ ضعیف
الحارث بن النعمان: ضعیف (تقریب: 1052)
وللحدیث شواہد کلھا ضعیفۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ وَاصِلٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ اللہُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِنَّہُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِہِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيہِمْ فَإِنَّ اللہَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے دعاکی:اللہُمَّ أَحْیِنِی مِسْکِینًا وَأَمِتْنِی مِسْکِینًا وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَۃِ الْمَسَاکِینِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۱؎ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا اللہ کے رسول! ایساکیوں؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے،لہذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کاایک ٹکڑا ہی سہی،عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اوران سے قربت اختیا رکرو،بے شک اللہ تعالیٰ تم کو روزقیامت اپنے سے قریب کرے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔