Jamia al-Tirmidhi Hadith 2351 (سنن الترمذي)
[2351] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (4123)
عطیۃ العوفي ضعیف
وسلیمان الأعمش عنعن
و حدیث مسلم (2979) و الحدیث الآتي (الأصل: 2354) یغنیان عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فُقَرَاءُ الْمُہَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِہِمْ بِخَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ
ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجر فقراء جنت میں مالدارمہاجر سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،۲-اس باب میں ابوہریرہ،عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ وضاحت ۱؎: یہ اس لیے کہ غریب مہاجرکے پاس چونکہ مال کم تھا،اس لیے انہیں حساب و کتاب میں زیادہ تاخیر نہیں ہوگی،جب کہ مالدار مہاجرین کو مال کے حساب میں بہت تاخیر ہوگی،اس سے غریب کی فضیلت معلوم ہوئی۔آخرت کاآدھادن دنیاکے پانچ سوسال کے برابرہوگا،اس لحاظ سے جس حدیث میں آدھے دن کا ذکرہے اس سے آخرت کا آدھا دن مرادہے۔