Jamia al-Tirmidhi Hadith 2374 (سنن الترمذي)
[2374]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (4017)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ قَال سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِنَّ ہَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَہُ بِحَقِّہِ بُورِكَ لَہُ فِيہِ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِہِ نَفْسُہُ مِنْ مَالِ اللہِ وَرَسُولِہِ لَيْسَ لَہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْوَلِيدِ اسْمُہُ عُبَيْدُ سَنُوطَی
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیااس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور کتنے ایسے ہیں جواللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام وناجائزطریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آ گ تیار ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔