Jamia al-Tirmidhi Hadith 238 (سنن الترمذي)
[238] إسنادہ ضعیف
أبو سفیان السعدي : ضعیف (تقریب: 3013)
و قول ابن مسعود رضي اللہ عنہ،رواہ البیہقي (2/ 16،وسندہ صحیح ) وھو یغني عنہ،انظر سنن أبي داود بتحقیقي (61)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّہُورُ وَتَحْرِيمُہَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُہَا التَّسْلِيمُ وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِالْحَمْدُ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِہَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ قَالَ وَحَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي ہَذَا أَجْوَدُ إِسْنَادًا وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ وَقَدْ كَتَبْنَاہُ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْوُضُوءِ وَالْعَمَلُ عَلَيْہِ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ إِنَّ تَحْرِيمَ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرُ وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ دَاخِلًا فِي الصَّلَاةِ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ مُسْتَمْلِيَ وَكِيعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَہْدِيٍّ يَقُولُ لَوْ افْتَتَحَ الرَّجُلُ الصَّلَاةَ بِسَبْعِينَ اسْمًا مِنْ أَسْمَاءِ اللہِ وَلَمْ يُكَبِّرْ لَمْ يُجْزِہِ وَإِنْ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَمَرْتُہُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَی مَكَانِہِ فَيُسَلِّمَ إِنَّمَا الْأَمْرُ عَلَی وَجْہِہِ قَالَ وَأَبُو نَضْرَةَ اسْمُہُ الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: صلاۃ کی کنجی وضو(طہارت) ہے،اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے،اور اس آدمی کی صلاۃہی نہیں جو الحمد للہ (سورہ فاتحہ) اوراس کے ساتھ کوئی اورسورۃ نہ پڑھے خواہ فرض صلاۃ ہویا کوئی اورصلاۃ ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔۳-علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور ابوسعید خدری کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،ہم اسے کتاب الوضوکے شروع میں ذکرکر چکے ہیں(حدیث نمبر: ۳)،۴-صحابہ کرام اوران کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے،یہی سفیان ثوری،ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ صلاۃ کی تحریم تکبیر ہے،آدمی صلاۃ میں تکبیر کے(یعنی اللہ اکبر کہے) بغیر داخل نہیں ہوسکتا،۵-عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: اگر آدمی اللہ کے ناموں میں سے ستر نام لے کر صلاۃ شروع کرے اور اللہ اکبر نہ کہے تو بھی یہ اسے کافی نہ ہوگا۔اور اگر سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہوجائے تو میں اسے حکم دیتاہوں کہ وضو کرے پھر اپنی (صلاۃ کی) جگہ آکر بیٹھے اور سلام پھیرے،اورحکم (رسول) اپنے حال (ظاہر)پر(باقی) رہے گا ۱؎۔