Jamia al-Tirmidhi Hadith 2391 (سنن الترمذي)
[2391]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ سَبْعَةٌ يُظِلُّہُمْ اللہُ فِي ظِلِّہِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللہِ وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُہُ مُعَلَّقًا بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْہُ حَتَّی يَعُودَ إِلَيْہِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللہِ فَاجْتَمَعَا عَلَی ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللہَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاہُ وَرَجُلٌ دَعَتْہُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللہَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاہَا حَتَّی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَہَكَذَا رُوِيَ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ مِثْلَ ہَذَا وَشَكَّ فِيہِ وَقَالَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ رَوَاہُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ يَشُكَّ فِيہِ يَقُولُ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْعَنْبَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي خُبَيْبٌ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِمَعْنَاہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ كَانَ قَلْبُہُ مُعَلَّقًا بِالْمَسَاجِدِ وَقَالَ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ
ابوہریرہ یا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے (عرش کے) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگااپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والاحکمراں ہے،دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلابڑھا ۱؎،تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہواہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضاکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی،اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎،پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے،چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے،لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے،ساتواں وہ آدمی جس نے کوئی صدقہ کیاتواسے چھپایایہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ پتہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-یہ حدیث امام مالک بن انس سے اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی اسی کے مثل مروی ہے،ان میں بھی راوی نے شک کا اظہار کیا ہے اور کہاہے عن أبی ہریرۃ أو عن أبی سعید اورعبید اللہ بن عمر عمری نے اس حدیث کو خبیب بن عبدالرحمٰن سے بغیر شک کے روایت کیا ہے،اس میں انہوں نے صرف عن أبی ہریرۃ کہا ہے۔اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے،اس میں انہوں نے مُعَلَّقًا بِالْمَسْجِدِ کی بجائے مُعَلَّقًا بِالْمَسَاجِدِاورذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ کی بجائےذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍکہا۔