Jamia al-Tirmidhi Hadith 2392 (سنن الترمذي)
[2392]إسنادہ حسن
[ترمذی: 2392 ب] إسنادہ ضعیف، السند مرسل: یزید بن نعامۃ تابعي رحمہ اللہ مشکوۃ المصابیح (5016)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاہُ فَلْيُعْلِمْہُ إِيَّاہُ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْمِقْدَامِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَالْمِقْدَامُ يُكْنَی أَبَا كَرِيمَةَ حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ وَقُتَيْبَةُ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَصِيرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ نَعَامَةَ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا آخَی الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلْيَسْأَلْہُ عَنْ اسْمِہِ وَاسْمِ أَبِيہِ وَمِمَّنْ ہُوَ فَإِنَّہُ أَوْصَلُ لِلْمَوَدَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَلَا نَعْرِفُ لِيَزِيدَ بْنِ نَعَامَةَ سَمَاعًا مِنْ النَّبِيِّ ﷺ وَيُرْوَی عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ ہَذَا وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُہُ
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے کسی مسلمان بھائی سے محبت کرے تو وہ اپنی اس محبت سے آگاہ کردے ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-مقدام کی حدیث حسن صحیح غریب ہے،۲-اس باب میں ابوذراورانس رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ یزید بن نعامہ ضبی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی شخص کسی سے بھائی چارہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا نام اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام پوچھ لے کیوں کہ اس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے،اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں،۲-ہم نہیں جانتے کہ یزید بن نعامہ کا سماع نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے،۳-ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے،لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے۔2-