Jamia al-Tirmidhi Hadith 2396 (سنن الترمذي)
[2396] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (4031)
سعد بن سنان صدوق لکن روایۃ یزید بن أبي حبیب عنہ منکرۃ (انظر کتاب الضعفاء للعقیلي 119/2،رواہ عن الإمام أحمد و سندہ قوي)
وللحدیث شواھد ضعیفۃ عند الحاکم (349/1،376/4۔377) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَہُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا وَإِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْہُ بِذَنْبِہِ حَتَّی يُوَافِيَ بِہِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے دنیا ہی میں جلدسزادے دیتا ہے ۱؎،اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر(برائی) کا ارادہ کرتاہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتاہے۔یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزاد یتاہے۔انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بڑا ثواب بڑی بلا (آزمائش) کے ساتھ ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتاہے تواسے آزماتا ہے پس جو اللہ کی تقدیر پر راضی ہو اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اورجو اللہ کی تقدیر سے ناراض ہو تو اللہ بھی اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سندسے حسن غریب ہے۔