Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2403 (سنن الترمذي)

[2403] إسنادہ ضعیف جدًا

یحیی بن عبید اللہ: متروک

انوار الصحیفہ ص 254، 255

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ عُبَيْدِ اللہِ قَال سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ قَالُوا وَمَا نَدَامَتُہُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَزَعَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُہُ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَيَحْيَی بْنُ عُبَيْدِ اللہِ قَدْ تَكَلَّمَ فِيہِ شُعْبَةُ وَہُوَ يَحْيَی بْنُ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ مَوْہَبٍ مَدَنِيٌّ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی مرتاہے وہ نادم وشرمندہ ہوتاہے،صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول!شرم وندامت کی کیاوجہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر وہ شخص نیک ہے تواسے اس بات پرندامت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکی نہ کرسکا،اور اگر وہ بد ہے تو نادم ہوتاہے کہ میں نے بدی سے اپنے آپ کو نکالاکیوں نہیں۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں،۲-یحییٰ بن عبیدا للہ کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے،اور یہ یحییٰ بن عبید اللہ بن موہب مدنی ہیں۔