Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2414 (سنن الترمذي)

[2414] إسنادہ ضعیف

رجل من أھل المدینۃ مجہول و روی ابن حبان (الإحسان: 277) عن عائشۃ رضي اللہ عنھا أن رسول اللہ ﷺ قال: ((من أرضی اللہ بسخط الناس کفاہ اللہ و من أسخط اللہ برضا الناس وکلہ اللہ إلی الناس۔)) و سندہ صحیح

و رواہ أحمد فی الزھد (ص164ح 908) عن عائشۃ موقوفًا و سندہ صحیح

و حدیث ابن حبان و أحمد یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 255

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ بْنِ الْوَرْدِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَی عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنْ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيہِ وَلَا تُكْثِرِي عَلَيَّ فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا إِلَی مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَنْ الْتَمَسَ رِضَا اللہِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاہُ اللہُ مُؤْنَةَ النَّاسِ وَمَنْ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللہِ وَكَلَہُ اللہُ إِلَی النَّاسِ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّہَا كَتَبَتْ إِلَی مُعَاوِيَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاہُ وَلَمْ يَرْفَعْہُ

عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھیئے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے۔چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا: دعا وسلام کے بعد معلوم ہوکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضاکاطالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہوگا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کردے گا،(والسلام علیک تم پراللہ کی سلامتی نازل ہو) ۱؎۔اس سند سے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے،لیکن یہ مرفوع نہیں ہے۔