Jamia al-Tirmidhi Hadith 242 (سنن الترمذي)
[242]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (1217)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ بِاللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللہُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَی جَدُّكَ وَلَا إِلَہَ غَيْرُكَ ثُمَّ يَقُولُ اللہُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللہِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَشْہَرُ حَدِيثٍ فِي ہَذَا الْبَابِ وَقَدْ أَخَذَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِہَذَا الْحَدِيثِ وَأَمَّا أَكْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ فَقَالُوا بِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ كَانَ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللہُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَی جَدُّكَ وَلَا إِلَہَ غَيْرُكَ وَہَكَذَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَغَيْرِہِمْ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ كَانَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ يَتَكَلَّمُ فِي عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ و قَالَ أَحْمَدُ لَا يَصِحُّ ہَذَا الْحَدِيثُ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ رات کو جب صلاۃ کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے،پھر سُبْحَانَکَ اللّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ إِلہَ غَیْرُکَ (اے اللہ! پاک ہے توہرعیب اورہرنقص سے،سب تعریفیں تیرے لیے ہیں،با برکت ہے تیرانام اوربلندہے تیری شان،اور تیرے سوا کوئی معبودبرحق نہیں) پڑھتے پھر اللہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا (اللہ بہت بڑاہے) کہتے پھر أَعُوذُ بِاللہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ (میں اللہ سمیع وعلیم کی شیطان مردود سے،پناہ چاہتا ہوں،اس کے وسوسوں سے،اس کے کبرونخوت سے اور اس کے اشعاراورجادوسے)کہتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس باب میں علی،عائشہ،عبداللہ بن مسعود،جابر،جبیر بن مطعم اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۲-اس باب میں ابوسعید کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے،۳-اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کو اختیارکیاہے،رہے اکثر اہل علم تو ان لوگوں نے وہی کہاہے جونبی اکرمﷺسے مروی ہے کہ آپ سُبْحَانَکَ اللّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ إِلہَ غَیْرُکَ کہتے تھے ۲؎ اوراسی طرح عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔۴-ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔یحیی بن سعید راوی حدیث علی بن علی رفاعی کے بارے میں کلام کرتے تھے۔اوراحمد کہتے تھے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔