Jamia al-Tirmidhi Hadith 244 (سنن الترمذي)
[244] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (815)
ابن عبد اللہ بن مغفل / محمد،لم یوثقہ غیر ابن حبان
وانظر الحدیث الآتی (245)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ أَقُولُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ لِي أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ قَالَ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ كَانَ أَبْغَضَ إِلَيْہِ الْحَدَثُ فِي الْإِسْلَامِ يَعْنِي مِنْہُ قَالَ وَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْہُمْ يَقُولُہَا فَلَا تَقُلْہَا إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْہِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْہُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَغَيْرُہُمْ وَمَنْ بَعْدَہُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ لَا يَرَوْنَ أَنْ يَجْہَرَ بِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالُوا وَيَقُولُہَا فِي نَفْسِہِ
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بیٹے کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے صلاۃمیں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے سنا تو انہوں نے مجھ سے کہا:بیٹے!یہ بدعت ہے،اور بدعت سے بچو۔میں نے رسول اللہﷺ کے اصحاب میں سے کسی کو نہیں دیکھا جوان سے زیادہ اسلام میں بدعت کامخالف ہو،میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ،ابوبکر کے ساتھ،عمر کے ساتھ اور عثمان (رضی اللہ عنہم) کے ساتھ صلاۃ پڑھی ہے لیکن میں نے ان میں سے کسی کو اسے (اُونچی آواز سے) کہتے نہیں سنا،توتم بھی اسے نہ کہو ۱؎،جب تم صلاۃ پڑھو توقرأت الحمد للہ رب العالمین سے شروع کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-صحابہ جن میں ابوبکر،عمر،عثمان،علی وغیرہ شامل ہیں اوران کے بعدکے تابعین میں سے اکثراہل علم کا عمل اسی پر ہے،اوریہی سفیان ثوری،ابن مبارک،احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں،یہ لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم زور سے کہنے کو درست نہیں سمجھتے (بلکہ) ان کاکہنا ہے کہ آدمی اسے اپنے دل میں کہے ۲؎۔