Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2465 (سنن الترمذي)

[2465] إسنادہ ضعیف

یزید بن أبان زاھد ضعیف

انوار الصحیفہ ص 258

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ وَہُوَ الرَّقَاشِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ كَانَتْ الْآخِرَةُ ہَمَّہُ جَعَلَ اللہُ غِنَاہُ فِي قَلْبِہِ وَجَمَعَ لَہُ شَمْلَہُ وَأَتَتْہُ الدُّنْيَا وَہِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ الدُّنْيَا ہَمَّہُ جَعَلَ اللہُ فَقْرَہُ بَيْنَ عَيْنَيْہِ وَفَرَّقَ عَلَيْہِ شَمْلَہُ وَلَمْ يَأْتِہِ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَہُ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا مقصود زندگی آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں استغناء وبے نیازی پیداکردیتاہے،اوراسے دل جمعی عطا کرتا ہے ۱؎،اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہوکر آتی ہے اور جس کا مقصود طلب دنیا ہو،اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتاہے اور اس کی جمع خاطر کو پریشان کردیتاہے اوردنیا اس کے پاس اتنی ہی آتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہے۔