Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2472 (سنن الترمذي)

[2472]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (5253)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللہِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللہِ وَمَا يُؤْذَی أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُہُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيہِ إِبْطُ بِلَالٍ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَی ہَذَا الْحَدِيثِ حِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ ہَارِبًا مِنْ مَكَّةَ وَمَعَہُ بِلَالٌ إِنَّمَا كَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنْ الطَّعَامِ مَا يَحْمِلُہُ تَحْتَ إِبْطِہِ

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی راہ میں ایساڈرایا گیا کہ اس طرح کسی کو نہیں ڈرایاگیا اور اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں،مجھ پر مسلسل تیس دن ورات گزر جاتے اور میرے اور بلال کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوتا کہ جسے کوئی جان والاکھائے سوائے تھوڑی سی چیز کے جسے بلال اپنی بغل میں چھپالیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-ـ اس حدیث میں وہ دن مراد ہیں کہ جب آپ ﷺ اہل مکہ سے بیزار ہوکر مکہ سے نکل گئے تھے اور ساتھ میں بلال تھے،ان کے پاس کچھ کھانا تھا جسے وہ بغل میں دبائے ہوئے تھے۔