Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2473 (سنن الترمذي)

[2473] إسنادہ ضعیف

’’من سمع‘‘ مجہول: لم أعرفہ

انوار الصحیفہ ص 258

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ خَرَجْتُ فِي يَوْمٍ شَاتٍ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَقَدْ أَخَذْتُ إِہَابًا مَعْطُوبًا فَحَوَّلْتُ وَسَطَہُ فَأَدْخَلْتُہُ عُنُقِي وَشَدَدْتُ وَسَطِي فَحَزَمْتُہُ بِخُوصِ النَّخْلِ وَإِنِّي لَشَدِيدُ الْجُوعِ وَلَوْ كَانَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللہِ ﷺ طَعَامٌ لَطَعِمْتُ مِنْہُ فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ شَيْئًا فَمَرَرْتُ بِيَہُودِيٍّ فِي مَالٍ لَہُ وَہُوَ يَسْقِي بِبَكَرَةٍ لَہُ فَاطَّلَعْتُ عَلَيْہِ مِنْ ثُلْمَةٍ فِي الْحَائِطِ فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَعْرَابِيُّ ہَلْ لَكَ فِي كُلِّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ قُلْتُ نَعَمْ فَافْتَحْ الْبَابَ حَتَّی أَدْخُلَ فَفَتَحَ فَدَخَلْتُ فَأَعْطَانِي دَلْوَہُ فَكُلَّمَا نَزَعْتُ دَلْوًا أَعْطَانِي تَمْرَةً حَتَّی إِذَا امْتَلَأَتْ كَفِّي أَرْسَلْتُ دَلْوَہُ وَقُلْتُ حَسْبِي فَأَكَلْتُہَا ثُمَّ جَرَعْتُ مِنْ الْمَاءِ فَشَرِبْتُ ثُمَّ جِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فِيہِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک ٹھنڈے دن میں رسول اللہ ﷺ کے گھر سے میں نکلا اور ساتھ میں ایک بدبودار چمڑا لے لیا جس کے بال جھڑے ہوئے تھے،پھر بیچ سے میں نے اسے کاٹ کر اپنی گردن میں ڈال لیا اور اپنی کمر کو کھجور کی شاخ سے باندھ دیا،مجھے بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی،اگر رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کچھ کھانا ہوتا تو میں اس میں سے ضرور کھالیتا،چنانچہ میں کچھ کھانے کی تلاش میں نکلا،راستے میں ایک یہودی کے پاس سے گزرا جو اپنے باغ میں چرخی سے پانی دے رہاتھا،اس کو میں نے دیوار کی ایک سوراخ سے جھانکا تو اس نے کہا: اعرابی! کیابات ہے؟ کیاتو ایک کھجور پر ایک ڈول پانی کھینچے گا؟ میں نے کہا: ہاں،اور اپنا دروازہ کھول دو تاکہ میں اندرآجاؤں،اس نے دروازہ کھول دیا اور میں داخل ہوگیا،اس نے مجھے اپنا ڈول دیا،پھر جب بھی میں ایک ڈول پانی نکالتا تووہ ایک کھجور مجھے دیتا یہاں تک کہ جب میری مٹھی بھر گئی تو میں نے اس کا ڈول چھوڑ دیا اور کہاکہ اتنا میرے لیے کافی ہے،چنانچہ میں نے اسے کھایا اور دوتین گھونٹ پانی پیا،پھر میں مسجد میں آیااور وہیں رسول اللہ ﷺ کو موجود پایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔