Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2484 (سنن الترمذي)

[2484] إسنادہ ضعیف

خالد بن طھمان اختلط قبل موتہ بعشرسنین (الکواکب النیرات ص 23،28)

قال معاذ علي زئي:

قال أبي رحمہ اللہ في تخریج مشکوۃ المصابیح (1920): ’’فالحدیث ضعیف من أجل اختلاطہ‘‘.

وانظر أنوار الصحیفۃ (ص 274) وفیہ: ’’خالد بن طہمان اختلط ولم یثبت أنہ حدث بہ قبل اختلاطہ‘‘.

قلتُ: یعني لم یثبت أن أبا أحمد الزبیري سمع منہ قبل اختلاطہ،واللہ أعلم

انوار الصحیفہ ص 259

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَہْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ قَالَ جَاءَ سَائِلٌ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِلسَّائِلِ أَتَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ نَعَمْ قَالَ سَأَلْتَ وَلِلسَّائِلِ حَقٌّ إِنَّہُ لَحَقٌّ عَلَيْنَا أَنْ نَصِلَكَ فَأَعْطَاہُ ثَوْبًا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حِفْظٍ مِنْ اللہِ مَا دَامَ مِنْہُ عَلَيْہِ خِرْقَةٌ قَالَ ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ

حصین کہتے ہیں کہ ایک سائل نے آکر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ مانگا تو ابن عباس نے سائل سے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہوکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے؟ اس نے کہا: ہاں،آپ نے کہا: کیاتم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں،آپ نے کہا: کیاتم رمضان کے صیام رکھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں،آپ نے کہا: تم نے سوال کیا اور سائل کاحق ہوتاہے،بے شک ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں،چنانچہ انہوں نے اسے ایک کپڑا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوکوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کو کوئی کپڑا پہناتا ہے تو وہ اللہ کی امان میں اس وقت تک رہتاہے جب تک اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی اس پر باقی رہتاہے ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔