Jamia al-Tirmidhi Hadith 2487 (سنن الترمذي)
[2487]صحیح
مشکوۃ المصابیح (3026)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ أَتَاہُ الْمُہَاجِرُونَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ مِنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْہُرِہِمْ لَقَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَہْنَإِ حَتَّی لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْہَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّہِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَا مَا دَعَوْتُمْ اللہَ لَہُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْہِمْ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس مہاجرین نے آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ان سے بڑھ کر ہم نے کوئی قوم ایسی نہیں دیکھی جو اپنے مال بہت زیادہ خرچ کرنے والی ہے اور تھوڑے مال ہونے کی صورت میں بھی دوسروں کے ساتھ غمخواری کرنے والی ہے۔چنانچہ انہوں نے ہم کو محنت ومشقت سے باز رکھا اور ہم کو آرام و راحت میں شریک کیا یہاں تک کہ ہمیں خوف ہے کہ ہماری ساری نیکیوں کا ثواب کہیں انہیں کو نہ مل جائے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بات ایسی نہیں ہے جیسا تم نے سمجھا ہے جب تک تم لوگ اللہ سے ان کے لیے دعائے خیرکرتے رہوگے اورا ن کا شکریہ اداکرتے رہوگے ۱ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔