Jamia al-Tirmidhi Hadith 251 (سنن الترمذي)
[251] إسنادہ ضعیف
ابو داود (779) ابن ماجہ (844)
قتادۃ عنعن۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ سَكْتَتَانِ حَفِظْتُہُمَا عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَقَالَ حَفِظْنَا سَكْتَةً فَكَتَبْنَا إِلَی أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنْ حَفِظَ سَمُرَةُ قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ مَا ہَاتَانِ السَّكْتَتَانِ قَالَ إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِہِ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِذَا قَرَأَ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُہُ إِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ أَنْ يَسْكُتَ حَتَّی يَتَرَادَّ إِلَيْہِ نَفَسُہُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ لِلْإِمَامِ أَنْ يَسْكُتَ بَعْدَمَا يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَبَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْ الْقِرَاءَةِ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَأَصْحَابُنَا
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (صلاۃ میں) دوسکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہﷺ سے یاد کیاہے،اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا اور کہا: ہمیں توایک ہی سکتہ یاد ہے۔چنانچہ(سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم نے مدینے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا،تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے(ٹھیک) یاد رکھا ہے۔ سعید بن أبی عروبہ کہتے ہیں:تو ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دوسکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: جب صلاۃ میں داخل ہو تے (پہلا اس وقت) اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے،پھراس کے بعدکہااور جب ولا الضالین کہتے ۱؎ اور آپ کویہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں توتھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث آئی ہے،۳-اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے صلاۃ شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد (تھوڑی دیر)چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔اوریہی احمد،اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔