Jamia al-Tirmidhi Hadith 2530 (سنن الترمذي)
[2530]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَصَلَّی الصَّلَوَاتِ وَحَجَّ الْبَيْتَ لَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَی اللہِ أَنْ يَغْفِرَ لَہُ إِنْ ہَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللہِ أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِہِ الَّتِي وُلِدَ بِہَا قَالَ مُعَاذٌ أَلَا أُخْبِرُ بِہَذَا النَّاسَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ذَرْ النَّاسَ يَعْمَلُونَ فَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَی الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُہَا وَفَوْقَ ذَلِكَ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْہَا تُفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللہَ فَسَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَكَذَا رُوِيَ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَہَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ہَمَّامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَعَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَمُعَاذٌ قَدِيمُ الْمَوْتِ مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے صیام رکھے،صلاتیں پڑھیں اور حج کیا (-عطاء بن یسار کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہمعاذ نے زکاۃ کا ذکر کیا یا نہیں-) تو اللہ تعالیٰ پریہ حق بنتا ہے کہ اس کوبخش دے اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنی پیدائشی سرزمین میں ٹھہرا رہے۔معاذ نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑدو،وہ عمل کرتے رہیں،اس لیے کہ جنت میں سودرجے ہیں اور ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان اتناہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین وآسمان کے درمیان کا،فردوس جنت کا اعلیٰ اور سب سے اچھا درجہ ہے،اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں،لہذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث عن ہشام بن سعد،عن زید بن أسلم،عن عطاء بن یسار عن معاذ بن جبل کی سند سے مروی ہے،اور یہ میرے نزدیک ہمام کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے،جسے انہوں نے عن زید بن أسلم،عن عطاء بن یسار عن عبادۃ بن الصامتکی سند سے روایت کی ہے (جو آگے آرہی ہے)،عطاء نے معاذ بن جبل کو نہیں پایا ہے (یعنی ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے) اور معاذ بن جبل کی وفات (عبادہ بن صامت سے پہلے) عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی ہے۔