Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 2599 (سنن الترمذي)

[2599] إسنادہ ضعیف

رشدین والإفریقي ضعیفان

انوار الصحیفہ ص 263

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَنْعُمَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِمَّنْ دَخَلَ النَّارَ اشْتَدَّ صِيَاحُہُمَا فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ أَخْرِجُوہُمَا فَلَمَّا أُخْرِجَا قَالَ لَہُمَا لِأَيِّ شَيْءٍ اشْتَدَّ صِيَاحُكُمَا قَالَا فَعَلْنَا ذَلِكَ لِتَرْحَمَنَا قَالَ إِنَّ رَحْمَتِي لَكُمَا أَنْ تَنْطَلِقَا فَتُلْقِيَا أَنْفُسَكُمَا حَيْثُ كُنْتُمَا مِنْ النَّارِ فَيَنْطَلِقَانِ فَيُلْقِي أَحَدُہُمَا نَفْسَہُ فَيَجْعَلُہَا عَلَيْہِ بَرْدًا وَسَلَامًا وَيَقُومُ الْآخَرُ فَلَا يُلْقِي نَفْسَہُ فَيَقُولُ لَہُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُلْقِيَ نَفْسَكَ كَمَا أَلْقَی صَاحِبُكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيہَا بَعْدَ مَا أَخْرَجْتَنِي فَيَقُولُ لَہُ الرَّبُّ لَكَ رَجَاؤُكَ فَيَدْخُلَانِ جَمِيعًا الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللہِ قَالَ أَبُو عِيسَی إِسْنَادُ ہَذَا الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ لِأَنَّہُ عَنْ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ہُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ عَنْ ابْنِ أَنْعُمَ وَہُوَ الْأَفْرِيقِيُّ وَالْأَفْرِيقِيُّ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے دو آدمیوں کی چیخ بلند ہوگی۔رب عزوجل کہے گا: ان دونوں کو نکالو،جب انہیں نکالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تمہاری چیخ کیوں بلند ہورہی ہے؟ وہ دونوں عرض کریں گے: ہم نے ایسا اس وجہ سے کیا تاکہ تو ہم پر رحم کر۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم دونوں کے لیے ہماری رحمت یہی ہے کہ تم جاؤ اور اپنے آپ کو اسی جگہ جہنم میں ڈال دو جہاں پہلے تھے۔وہ دونوں چلیں گے ان میں سے ایک اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو ٹھنڈا اور سلامتی والی بنادے گااوردوسرا کھڑا رہے گااور اپنے آپ کو نہیں ڈالے گا۔اس سے رب عزوجل پوچھے گا:تمہیں جہنم میں اپنے آپ کو ڈالنے سے کس چیز نے روکا؟ جیسے تمہارے ساتھی نے اپنے آپ کو ڈالا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے امید ہے کہ تو جہنم سے نکالنے کے بعد اس میں دوبارہ نہیں داخل کرے گا،اس سے رب تعالیٰ کہے گا: تمہارے لیے تیری تمنا پوری کی جارہی ہے،پھر وہ دونوں اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے،اس لیے کہ یہ رشدین بن سعد کے واسطہ سے مروی ہے،اور رشدین بن سعد محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں،اور رشد ین عبدالرحمٰن بن انعم سے روایت کرتے ہیں،یہ ابن انعم افریقی ہیں اور افریقی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔