Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 288 (سنن الترمذي)

[288] إسنادہ ضعیف

خالد بن إلیاس: متروک الحدیث (تقریب: 1617)

انوار الصحیفہ ص 197

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَنْہَضُ فِي الصَّلَاةِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَيْہِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَلَيْہِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَنْہَضَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَيْہِ وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ہُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ قَالَ وَيُقَالُ خَالِدُ بْنُ إِيَاسٍ أَيْضًا وَصَالِحٌ مَوْلَی التَّوْأَمَةِ ہُوَ صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ وَأَبُو صَالِحٍ اسْمُہُ نَبْہَانُ وَہُوَ مَدَنِيٌّ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہـ نبی اکرمﷺ صلاۃ میں اپنے دونوں قدموں کے سروں یعنی دونوں پیروں کی انگلیوں پر زور دے کر اٹھتے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں: اہل علم کے نزدیک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی حدیث پر عمل ہے۔خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔انہیں خالد بن ایاس بھی کہاجاتاہے،لوگ اسی کو پسندکرتے ہیں کہ آدمی صلاۃ میں اپنے دونوں قدموں کے سروں پرزور دے کر(بغیربیٹھے) کھڑا ہو۔