Jamia al-Tirmidhi Hadith 289 (سنن الترمذي)
[289]صحیح
خصیف ضعیف، والرؤیا لاحجۃ فیہ، والباقي صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا قَعَدْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَنْ نَقُولَ التَّحِيَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَأَبِي مُوسَی وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ قَدْ رُوِيَ عَنْہُ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ وَہُوَ أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي التَّشَہُّدِ وَالْعَمَلُ عَلَيْہِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ خُصَيْفٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْمَنَامِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اخْتَلَفُوا فِي التَّشَہُّدِ فَقَالَ عَلَيْكَ بِتَشَہُّدِ ابْنِ مَسْعُودٍ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ دعا پڑھیں:التَّحِیَّاتُ لِلّہِ،وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ،السَّلاَمُ عَلَیْکَ،أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ،السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ(تمام قولی،بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں،سلام ہوآپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں،سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتاہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ان سے کئی سندوں سے مروی ہے،اوریہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے جو تشہد میں نبی اکرمﷺ سے مروی ہیں،۲-اس باب میں ابن عمر،جابر،ابوموسیٰ اورعائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-صحابہ کرام ان کے بعدتابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اوریہی سفیان ثوری،ابن مبارک،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے،۴-ہم سے احمد بن محمدبن موسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبردی،اوروہ معمر سے اوروہ خصیف سے روایت کرتے ہیں،خصیف کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو خواب میں دیکھاتو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں تشہد کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا ہے؟توآپ نے فرمایا: تم پر ابن مسعود کا تشہد لازم ہے۔