Jamia al-Tirmidhi Hadith 293 (سنن الترمذي)
[293]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَہْلٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ جَلَسَ يَعْنِي لِلتَّشَہُّدِ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْيُسْرَی وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَی عَلَی قِبْلَتِہِ وَوَضَعَ كَفَّہُ الْيُمْنَی عَلَی رُكْبَتِہِ الْيُمْنَی وَكَفَّہُ الْيُسْرَی عَلَی رُكْبَتِہِ الْيُسْرَی وَأَشَارَ بِأُصْبُعِہِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبِہِ يَقُولُ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا يَقْعُدُ فِي التَّشَہُّدِ الْآخِرِ عَلَی وَرِكِہِ وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ قَالُوا يَقْعُدُ فِي التَّشَہُّدِ الْأَوَّلِ عَلَی رِجْلِہِ الْيُسْرَی وَيَنْصِبُ الْيُمْنَی
عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ ابوحمید،ابواسید،سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے،تو ان لوگوں نے رسول اللہﷺ کی صلاۃ کاذکر کیا۔اس پر ابوحمیدکہنے لگے کہ میں رسول اللہﷺ کی صلاۃ کو تم میں سب سے زیادہ جانتاہوں،رسول اللہﷺتشہدکے لیے بیٹھتے تو آپ اپنا بایاں پیربچھاتے ۱؎ اوراپنے دائیں پیرکی انگلیوں کے سروں کوقبلہ کی طرف متوجہ کرتے،اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پراور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھتے،اور اپنی انگلی (انگشت شہادت) سے اشارہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-یہی بعض اہل علم کہتے ہیں اوریہی شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے،یہ لوگ کہتے ہیں کہ اخیر تشہد میں اپنے سرین پر بیٹھے،ان لوگوں نے ابوحمید کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔ان کا کہناہے کہ پہلے تشہد میں بائیں پیر پر بیٹھے اور دایاں پیر کھڑا رکھے۔