Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 297 (سنن الترمذي)

[297] إسنادہ ضعیف

ابو داود (1004)

الزہري عنعن

انوار الصحیفہ ص 197، 198

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَہِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّہُ مَدًّا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَہُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّہُ أَہْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّہُ قَالَ التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ وَہِقْلٌ يُقَالُ كَانَ كَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حذف سلام سنت ہے۔علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: حذف سلام کامطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں،۳-ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیرجزم ہے اورسلام جزم ہے(یعنی ان دونوں میں مدنہ کھینچے بلکہ وقف کرے)۔