Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 296 (سنن الترمذي)

[296] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (919)

عمرو بن أبي سلمۃ الشامي یروي عن زہیر بن محمد أحادیث مناکیر: قال البخاری في ترجمۃ زہیربن محمد: ’’روی عنہ أھل الشام أحادیث مناکیر‘‘ (التاریخ الکبیر 427/3)

انوار الصحیفہ ص 197

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التِّنِّيسِيُّ عَنْ زُہَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْہِہِ يَمِيلُ إِلَی الشِّقِّ الْأَيْمَنِ شَيْئًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُہُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ زُہَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَہْلُ الشَّأْمِ يَرْوُونَ عَنْہُ مَنَاكِيرَ وَرِوَايَةُ أَہْلِ الْعِرَاقِ عَنْہُ أَشْبَہُ وَأَصَحُّ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ كَأَنَّ زُہَيْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الَّذِي كَانَ وَقَعَ عِنْدَہُمْ لَيْسَ ہُوَ ہَذَا الَّذِي يُرْوَی عَنْہُ بِالْعِرَاقِ كَأَنَّہُ رَجُلٌ آخَرُ قَلَبُوا اسْمَہُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ قَالَ بِہِ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي التَّسْلِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَأَصَحُّ الرِّوَايَاتِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ تَسْلِيمَتَانِ وَعَلَيْہِ أَكْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَہُمْ وَرَأَی قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً فِي الْمَكْتُوبَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنْ شَاءَ سَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً وَإِنْ شَاءَ سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ صلاۃ میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑاسا مائل ہوکرایک سلام پھیرتے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں،۲-محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہیر بن محمد سے اہل شام منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔البتہ ان سے مروی اہل عراق کی روایتیں زیادہ قرین صواب اورزیادہ صحیح ہیں،۳-محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کاکہناہے کہ شاید زہیر بن محمد جو اہل شام کے یہاں گئے تھے،وہ نہیں جن سے عراق میں روایت کی جاتی ہے،کوئی دوسرے آدمی ہیں جن کانام ان لوگوں نے بدل دیا ہے،۴-اس باب میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے،۵-صلاۃ میں سلام پھیرنے کے سلسلے میں بعض اہل علم نے یہی کہاہے،لیکن نبی اکرمﷺ سے مروی سب سے صحیح روایت دوسلاموں والی ہے ۱؎،صحابہ کرام،تابعین اوران کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں۔البتہ صحابہ کرام اوران کے علاوہ میں سے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فرض صلاۃ میں صرف ایک سلام ہے،شافعی کہتے ہیں: چاہے تو صرف ایک سلام پھیر ے اور چاہے تو دوسلام پھیرے۔