Jamia al-Tirmidhi Hadith 311 (سنن الترمذي)
[311]صحیح
مکحول التابعي برئ من التدلیس و للحدیث شواھد عند أبي داود (824) وغیرہ فالحدیث صحیح کما حققتہ فی ’’الکواکب الدریۃ في وجوب الفاتحۃ خلف الإمام فی الجھریۃ‘‘ مشکوۃ المصابیح (854)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْہِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللہِ إِي وَاللہِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّہُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِہَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَرَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ الزُّہْرِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ وَہَذَا أَصَحُّ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَہُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فجرپڑھی،آپ پر قرأت دشوارہوگئی،صلاۃ سے فارغ ہونے کے بعدآپ نے فرمایا: مجھے لگ رہاہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ہم نے عرض کیا: جی ہاں،اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا: تم ایسانہ کیا کروسوائے سورئہ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی صلاۃ نہیں ہوتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے۔آپ نے فرمایا: اس شخص کی صلاۃ نہیں جس نے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی،یہ سب سے صحیح روایت ہے،۳-اس باب میں ابوہریرہ،عائشہ،انس،ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-صحابہ اورتابعین میں سے اکثر اہل علم کاامام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ائمہ کرام میں سے مالک بن انس،ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے،یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۱؎۔