Jamia al-Tirmidhi Hadith 345 (سنن الترمذي)
[345] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (1020) الحدیث الآتی (2957)
عاصم بن عبید اللہ ضعیف (تقریب: 3065) وقال النووي: وقد ضعفہ الجمہور (خلاصۃ الأحکام 87/1 ح 98) وقال العیني: و قد ضعفہ الجمہور (عمدۃ القاري 13/11) وقال الھیثمي: وضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 150/8)
وللحدیث شواہد ضعیفۃ انظر تفسیر ابن کثیر (1/ 163)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ السَّمَّانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ أَيْنَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّی كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَی حِيَالِہِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَنَزَلَ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُہُ بِذَاكَ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ السَّمَّانِ وَأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ ذَہَبَ أَكْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِلَی ہَذَا قَالُوا إِذَا صَلَّی فِي الْغَيْمِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ اسْتَبَانَ لَہُ بَعْدَمَا صَلَّی أَنَّہُ صَلَّی لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَإِنَّ صَلَاتَہُ جَائِزَةٌ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہﷺ کے ساتھ سفرمیں تھے۔توہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے،ہم میں سے ہرشخص نے اسی طرف رخ کرکے صلاۃ پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرمﷺ سے اس کا ذکرکیا چنانچہ اس وقت آیت کریمہفَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ (تم جس طرف رخ کرلو اللہ کا منہ اسی طرف ہے) نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس حدیث کی سند کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ہم اسے صرف اشعث بن سمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں،اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان حدیث کے معاملے میں ضعیف گردانے جاتے ہیں،۲-اکثر اہل علم اسی کی طرف گئے ہیں کہ جب کوئی بدلی میں غیر قبلہ کی طرف صلاۃ پڑھ لے پھر صلاۃ پڑھ لینے کے بعدپتہ چلے اس نے غیر قبلہ کی طرف رخ کرکے صلاۃ پڑھی ہے تو اس کی صلاۃ درست ہے۔سفیان ثوری،ابن مبارک،احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔