Jamia al-Tirmidhi Hadith 370 (سنن الترمذي)
[370]بخاری ومسلم
مشکوۃ المصابیح (993)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَدِّ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ہُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ كَرِہَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ إِبْرَاہِيمُ إِنِّي لَأَرُدُّ التَّثَاؤُبَ بِالتَّنَحْنُحِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: صلاۃمیں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے،جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے توجہاں تک ہو سکے اسے روکے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں ابوسعید خدری اورعدی بن ثابت کے دادا (عبیدبن عازب) سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے صلاۃ میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے،ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں۔