Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 404 (سنن الترمذي)

[404]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (992)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ عَنْ عَمِّ أَبِيہِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيہِ مُبَارَكًا عَلَيْہِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَی فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ انْصَرَفَ فَقَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَہَا الثَّانِيَةَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَہَا الثَّالِثَةَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيہِ مُبَارَكًا عَلَيْہِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَی فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَقَدْ ابْتَدَرَہَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّہُمْ يَصْعَدُ بِہَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ رِفَاعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَكَأَنَّ ہَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّہُ فِي التَّطَوُّعِ لِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ التَّابِعِينَ قَالُوا إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِنَّمَا يَحْمَدُ اللہَ فِي نَفْسِہِ وَلَمْ يُوَسِّعُوا فِي أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ

رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ کے پیچھے صلاۃپڑھی،مجھے چھینک آئی تو میں نےالْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی کہا جب رسول اللہﷺ صلاۃپڑھ کرپلٹے توآپ نے پوچھا:صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟توکسی نے جواب نہیں دیا،پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا،پھرآپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! آپ نے پوچھا:تم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا:یوں کہاتھا الْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی تونبی اکرمﷺ نے فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-رفاعہ کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں انس،وائل بن حجر اورعامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے ۱؎ اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہناہے کہ جب آدمی فرض صلاۃ میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی۔