Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 410 (سنن الترمذي)

[410] إسنادہ ضعیف

نسائي (1354 ب)

خصیف ضعیف ضعفہ الجمھور،انظر کتاب الضعفاء للنسائي (177) وتھذیب التہذیب (3/ 143،144)

وأصل الحدیث صحیح بدون ’’التعشیر والتھلیل‘‘

انوار الصحیفہ ص 199

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّہِيدِ الْبَصْرِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مُجَاہِدٍ وَعِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَہُمْ أَمْوَالٌ يُعْتِقُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ قَالَ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا سُبْحَانَ اللہِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً وَاللہُ أَكْبَرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ عَشْرَ مَرَّاتٍ فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِہِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَا يَسْبِقُكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَفِي الْبَاب أَيْضًا عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَالْمُغِيرَةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيہِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ يُسَبِّحُ اللہَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُہُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُہُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ اللہَ عِنْدَ مَنَامِہِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيَحْمَدُہُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُكَبِّرُہُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس کچھ فقیرومحتاج لوگ آئے اورکہا: اللہ کے رسول! مالدار صلاۃ پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ صوم رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ان کے پاس مال بھی ہے،اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب تم صلاۃ پڑھ چکوتو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ،تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور تینتیس مرتبہ اللہ أکبر اور دس مرتبہ لا إلہ إلا اللہ کہہ لیاکرو،تو تم ان لوگوں کو پالوگے جوتم پر سبقت لے گئے ہیں،اورجو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جاسکیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن غریب ہے،۲-اس باب میں کعب بن عجرہ،انس،عبداللہ بن عمرو،زید بن ثابت،ابوالدرداء،ابن عمر اور ابوذر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،نیزاس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-نبی اکرمﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: دوعادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجالائے گاجنت میں داخل ہوگا۔ایک یہ کہ وہ ہرصلاۃ کے بعد دس بار سبحان اللہ،دس بار الحمد للہ،دس بار اللہ أکبر کہے،دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ سبحان اللہ،تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ أکبر کہے۔