Jamia al-Tirmidhi Hadith 417 (سنن الترمذي)
[417] إسنادہ ضعیف
نسائي (993) ابن ماجہ (1149)
أبو إسحاق عنعن
وحدیث مسلم ( 726) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَأَبُو عَمَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَمَقْتُ النَّبِيَّ ﷺ شَہْرًا فَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِقُلْ يَا أَيُّہَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحَفْصَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ النَّاسِ حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ وَقَدْ رَوَی عَنْ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ إِسْرَائِيلَ ہَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثِقَةٌ حَافِظٌ قَالَ سَمِعْت بُنْدَارًا يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ حِفْظًا مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ وَأَبُو أَحْمَدَ اسْمُہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ الْأَسَدِيُّ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کو ایک مہینے تک دیکھتا رہا،فجرسے پہلے کی دونوں رکعتوں میں آپ قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ اور قُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن ہے،۲-اور ہم ثوری کی روایت کو جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے صرف ابواحمد زبیری ہی کے طریق سے جانتے ہیں،(جب کہ) لوگوں (محدثین) کے نزدیک معروف عن اسرائیل عن أبی اسحاق ہے بجائے سفیان ابی اسحاق کے،۳-اورابواحمدزبیری کے واسطہ سے بھی اسرائیل سے روایت کی گئی ہے،۴-ابواحمد زبیری ثقہ اور حافظ ہیں،میں نے بُندارکوکہتے سناہے کہ میں نے ابواحمد زبیری سے زیادہ اچھے حافظے والا نہیں دیکھا،ابواحمد کانام محمد بن عبداللہ بن زبیر کوفی اسدی ہے،۵-اس باب میں ابن مسعود،انس،ابوہریرہ،ابن عباس،حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔