Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 466 (سنن الترمذي)

[466]صحیح

السند مرسل وللحدیث شواھد (انظر مشکوۃ المصابیح: 1279) مشکوۃ المصابیح (1268)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِہِ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت أَبَا دَاوُدَ السِّجْزِيَّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ الْأَشْعَثِ يَقُولُ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَقَالَ أَخُوہُ عَبْدُ اللہِ لَا بَأْسَ بِہِ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَنَّہُ ضَعَّفَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ و قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ثِقَةٌ قَالَ وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْكُوفَةِ إِلَی ہَذَا الْحَدِيثِ فَقَالُوا يُوتِرُ الرَّجُلُ إِذَا ذَكَرَ وَإِنْ كَانَ بَعْدَ مَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ

زید بن اسلم (مرسلاً) کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جووترپڑھے بغیرسوجائے،اورجب صبح کواٹھے تو پڑھ لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎،۲-میں نے أ بوداود سجزی یعنی سلیمان بن اشعث کو سنا،وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ میں کوئی مضائقہ نہیں،۳-میں نے محمد(بن اسماعیل بخاری) کو ذکر کرتے سنا،وہ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) سے روایت کررہے تھے کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کو ضعیف قراردیاہے اور کہاہے کہ(ان کے بھائی) عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں،۴-کوفہ کے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ آدمی وتر پڑھ لے جب اسے یاد آجائے،گو سورج نکلنے کے بعد یادآئے۔یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں ۲؎۔