Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 479 (سنن الترمذي)

[479] إسنادہ ضعیف جدًا

ابن ماجہ (1384)

فائد بن عبد الرحمٰن: متروک اتھموہ (تقریب: 5373)

انوار الصحیفہ ص 202

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَی بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَكْرٍ السَّہْمِيُّ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَكْرٍ عَنْ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي أَوْفَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ كَانَتْ لَہُ إِلَی اللہِ حَاجَةٌ أَوْ إِلَی أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلْيَتَوَضَّأْ فَلْيُحْسِنْ الْوُضُوءَ ثُمَّ لِيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لِيُثْنِ عَلَی اللہِ وَلْيُصَلِّ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ لِيَقُلْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَہُ وَلَا ہَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَہُ وَلَا حَاجَةً ہِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَہَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي إِسْنَادِہِ مَقَالٌ فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَفَائِدٌ ہُوَ أَبُو الْوَرْقَاءِ

عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ سے کوئی ضرورت ہو یابنی آدم میں سے کسی سے کوئی کام ہوتو پہلے وہ اچھی طرح وضو کرے،پھر دورکعتیں اداکرے،پھر اللہ کی حمد وثنا بیان کرے اورنبی اکرمﷺ پر صلاۃ(درود) وسلام بھیجے،پھر کہے:لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ،سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ،الْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ،وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ،وَالْغَنِیمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالسَّلاَمَۃَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ،لاَ تَدَعْ لِی ذَنْبًا إِلاَّ غَفَرْتَہُ،وَلاَ ہَمًّا إِلاَّ فَرَّجْتَہُ،وَلاَ حَاجَۃً ہِیَ لَکَ رِضًا إِلاَّ قَضَیْتَہَا،یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ (اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں،وہ حلیم(بردبار) ہے،کریم (بزرگی والا)ہے،پاک ہے اللہ جوعرش عظیم کا رب ہے،تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب العالمین(سارے جہانوں کا پالنہار) ہے،میں تجھ سے تیری رحمت کوواجب کرنے والی چیزوں کااورتیری بخشش کے یقینی ہونے کا سوال کرتاہوں،اورہرنیکی میں سے حصہ پانے کااور ہرگناہ سے سلامتی کاسوال کرتاہوں،اے ارحم الراحمین!تومیراکوئی گناہ باقی نہ چھوڑمگرتواسے بخش دے اورنہ کوئی غم چھوڑ،مگر تو اُسے دور فرمادے اورنہ کوئی ایسی ضرورت چھوڑجس میں تیری خوشنودی ہومگرتواُسے پوری فرمادے) امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث غریب ہے،۲-اس کی سند میں کلام ہے،فائدبن عبدالرحمٰن کو حدیث کے سلسلے میں ضعیف قراردیا جاتاہے،اور فائد ہی ابوالورقاء ہیں۔