Jamia al-Tirmidhi Hadith 489 (سنن الترمذي)
[489]صحیح
محمد بن أبي حمید لم ینفرد بہ وللحدیث شواھد عند الترمذي (490) و أبي داود (1048) وغیرہما مشکوۃ المصابیح (1360)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْہَاشِمِيُّ الْبَصْرِيُّ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَی فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَی غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَقَدْ رُوِيَ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ غَيْرِ ہَذَا الْوَجْہِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ يُضَعَّفُ ضَعَّفَہُ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِہِ وَيُقَالُ لَہُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ ہُوَ أَبُو إِبْرَاہِيمَ الْأَنْصَارِيُّ وَہُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَرَأَی بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ أَنَّ السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَی فِيہَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَی أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ أَحْمَدُ أَكْثَرُ الْأَحَادِيثِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَی فِيہَا إِجَابَةُ الدَّعْوَةِ أَنَّہَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَتُرْجَی بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جمعہ کے روز اس گھڑی کوجس میں دعاکی قبولیت کی امید کی جاتی ہے عصرسے لے کر سورج ڈوبنے تک کے درمیان تلاش کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،۲-یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے بھی کئی سندوں سے مروی ہے،۳-محمد بن ابی حمید ضعیف گردانے جاتے ہیں،بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان کی تضعیف کی ہے،انہیں حمادبن ابی حمیدبھی کہا جاتاہے،نیزکہاجاتاہے کہ یہی ابوابراہیم انصاری ہیں اوریہ منکرالحدیث ہیں،۴-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ گھڑی جس میں قبولیت دعاکی امید کی جاتی ہے عصرکے بعدسے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے،یہی احمداوراسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔احمد کہتے ہیں: اس گھڑی کے سلسلے میں جس میں دعاکی قبولیت کی امیدکی جاتی ہے زیادہ ترحدیثیں یہی آئی ہیں کہ یہ عصرکے بعدسے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے،نیز سورج ڈھلنے کے بعدبھی اس کے ہونے کی امیدکی جاتی ہے ۱؎۔