Jamia al-Tirmidhi Hadith 532 (سنن الترمذي)
[532]بخاری ومسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْہِ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ أَنَّہُ لَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةِ الْعِيدَيْنِ وَلَا لِشَيْءٍ مِنْ النَّوَافِلِ
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ عیدین کی صلاۃ ایک اور دوسے زیادہ بار یعنی متعدد بار بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-ا س باب میں جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے احادیث آئی ہیں،۳-صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کاعمل اسی پر ہے کہ عیدین کی صلاۃ کے لیے اذان نہیں دی جائے گی اورنہ نوافل میں سے کسی کے لیے۔