Jamia al-Tirmidhi Hadith 550 (سنن الترمذي)
[550]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (1352)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ صَحِبْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَہْرَا فَمَا رَأَيْتُہُ تَرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّہْرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْہُ فَلَمْ يَعْرِفْہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَلَمْ يَعْرِفْ اسْمَ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ وَرَآہُ حَسَنًا وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لَا يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَہَا وَرُوِيَ عَنْہُ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ كَانَ يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ ثُمَّ اخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَرَأَی بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَنْ يَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ فِي السَّفَرِ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَلَمْ تَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلَّی قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا وَمَعْنَی مَنْ لَمْ يَتَطَوَّعْ فِي السَّفَرِ قَبُولُ الرُّخْصَةِ وَمَنْ تَطَوَّعَ فَلَہُ فِي ذَلِكَ فَضْلٌ كَثِيرٌ وَہُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ التَّطَوُّعَ فِي السَّفَرِ
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ اٹھارہ مہینے رہا۔لیکن میں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے کی دونوں رکعتیں کبھی بھی آپ کو چھوڑتے نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-براء رضی اللہ عنہ کی حدیث غریب ہے،۲-میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تووہ اسے صرف لیث بن سعدہی کی روایت سے جان سکے اور وہ ابوبسرہ غفاری کا نام نہیں جان سکے اور انہوں نے اِسے حسن جانا ۱؎،۳-اس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے،۴-ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ سفر میں نہ صلاۃ سے پہلے نفل پڑھتے تھے اورنہ اس کے بعد ۲؎،۵-اور ابن عمرہی سے مروی ہے وہ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سفر میں نفل پڑھتے تھے ۳؎،۶-پھر نبی اکرمﷺ کے بعد اہل علم میں اختلاف ہوگیا،بعض صحابہ کرام کی رائے ہوئی کہ آدمی نفل پڑھے،یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں،۷-اہل علم کے ایک گروہ کی رائے نہ صلاۃ سے پہلے کوئی نفل پڑھنے کی ہے اور نہ صلاۃ کے بعد۔سفرمیں جولوگ نفل نہیں پڑھتے ہیں ان کامقصودرخصت کوقبول کرناہے اور جو نفل پڑھے تو اس کی بڑی فضیلت ہے۔یہی اکثر اہل علم کا قول ہے وہ سفرمیں نفل پڑھنے کو پسندکرتے ہیں ۴؎۔