Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 617 (سنن الترمذي)

[617]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ قَالَ فَرَآنِي مُقْبِلًا فَقَالَ ہُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقُلْتُ مَا لِي لَعَلَّہُ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ مَنْ ہُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ہُمْ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ ہَكَذَا وَہَكَذَا وَہَكَذَا فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْہِ وَعَنْ يَمِينِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَہَا إِلَّا جَاءَتْہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَہُ تَطَؤُہُ بِأَخْفَافِہَا وَتَنْطَحُہُ بِقُرُونِہَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاہَا عَادَتْ عَلَيْہِ أُولَاہَا حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ مِثْلُہُ وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ لُعِنَ مَانِعُ الصَّدَقَةِ وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ہُلْبٍ عَنْ أَبِيہِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاسْمُ أَبِي ذَرٍّ جُنْدَبُ بْنُ السَّكَنِ وَيُقَالُ ابْنُ جُنَادَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ مُوسَی عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ الْأَكْثَرُونَ أَصْحَابُ عَشَرَةِ آلَافٍ قَالَ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ مُنِيرٍ مَرْوَزِيٌّ رَجُلٌ صَالِحٌ

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا،آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے آپ نے مجھے آتا دیکھاتوفرمایا: رب کعبہ کی قسم! قیامت کے دن یہی لوگ خسارے میں ہوں گے ۲؎ میں نے اپنے جی میں کہا: شاید کوئی چیز میرے بارے میں نازل کی گئی ہو۔میں نے عرض کیا: کون لوگ؟ میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں؟تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہی لوگ جوبہت مال والے ہیں سوائے ان لوگوں کے جوایسا ایساکرے-آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سے لپ بھرکراپنے سامنے اوراپنے دائیں اوراپنے بائیں طرف اشارہ کیا-پھرفرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،جوبھی آدمی اونٹ اور گائے چھو ڑ کرمرااوراس نے اس کی زکاۃ ادانہیں کی تو قیامت کے دن وہ اس سے زیادہ بھاری اور موٹے ہوکر آئیں گے جتناوہ تھے ۳؎ اور اسے اپنی کھروں سے روندیں گے،اوراپنی سینگوں سے ماریں گے،جب ان کاآخری جانور بھی گزرچکے گاتو پھر پہلالوٹادیا جائے گا ۴؎ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے،۳-علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زکاۃ روک لینے والے پر لعنت کی گئی ہے ۵؎،۴-(یہ حدیث) قبیصہ بن ہلب نے اپنے والدہلب سے روایت کی ہے،نیزجابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔۵-ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ الأکثرون سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس دس ہزار (درہم یا دینار) ہوں۔