Jamia al-Tirmidhi Hadith 631 (سنن الترمذي)
[631] إسنادہ ضعیف جدًا
عبد الرحمن بن زید بن أسلم: ضعیف (تقریب: 3865) وقال الھیثمي: و الأکثر علی تضعیفہ (مجمع الزوائد 21/1) وقال ابن الملقن: ضعفہ الجمھور (خلاصۃ البدر المنیر : 11) وقال الحاکم: ’’روی عن أبیہ أحادیث موضوعۃ،لا یخفی علی من تأملھا من أھل الصنعۃ أن الحمل فیھا علیہ‘‘ (المدخل إلی الصحیح ص 154) فھو ضعیف جدًا فیما یرویہ عن أبیہ۔
وللحدیث شواھد ضعیفۃ
وکان ابن عمر یقول: ’’لا تجب في مال زکوۃ حتی یحول علیہ الحول‘‘ (الموطأ 1/ 246 ح 584) وسندہ صحیح
وانظر الحدیث الآتی (632)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الطَّلْحِيُّ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاةَ عَلَيْہِ حَتَّی يَحُولَ عَلَيْہِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّہِ وَفِي الْبَاب عَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْہَانَ الْغَنَوِيَّةِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جسے کوئی مال حاصل ہوتواس پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں ایک سال نہ گزرجائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں سرّا ء بنت نبھان غنویہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے۔