Jamia al-Tirmidhi Hadith 665 (سنن الترمذي)
[665]إسنادہ صحیح
وانظر مشکوۃ المصابیح (1942) مشکوۃ المصابیح (1879)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَنَّہَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَی بَابِي فَمَا أَجِدُ لَہُ شَيْئًا أُعْطِيہِ إِيَّاہُ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَہُ إِيَّاہُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيہِ إِلَيْہِ فِي يَدِہِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی ام بجیدحوّا رضی اللہ عنہا (جورسول اللہﷺ سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیزنہیں ہوتی۔(تومیں کیا کروں؟)رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا:اگر اسے دینے کے لئے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھُرہی ملے تووہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ام بجید رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں علی،حسین بن علی،ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔