Jamia al-Tirmidhi Hadith 744 (سنن الترمذي)
[744]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (2063)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أُخْتِہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتَرَضَ اللہُ عَلَيْكُمْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْہُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَمَعْنَی كَرَاہَتِہِ فِي ہَذَا أَنْ يَخُصَّ الرَّجُلُ يَوْمَ السَّبْتِ بِصِيَامٍ لِأَنَّ الْيَہُودَ تُعَظِّمُ يَوْمَ السَّبْتِ
عبداللہ بن بسر کی بہن بہیہ صمّاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہفتہ کے دن صوم مت رکھو ۱؎،سوائے اس کے کہ جو اللہ نے تم پرفرض کیاہو،اگرتم میں سے کوئی انگور کی چھال اور درخت کی ٹہنی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو اسی کو چبالے (اور صوم نہ رکھے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-اوراس کے مکروہ ہونے کامطلب یہ ہے کہ آدمی صوم کے لیے ہفتے (سنیچر) کادن مخصوص کرلے،اس لیے کہ یہودی ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔