Jamia al-Tirmidhi Hadith 839 (سنن الترمذي)

[839]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ احْتَجَمَ وَہُوَ مُحْرِمٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَعَبْدِ اللہِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ قَالُوا لَا يَحْلِقُ شَعْرًا و قَالَ مَالِكٌ لَا يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ و قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ لَا بَأْسَ أَنْ يَحْتَجِمَ الْمُحْرِمُ وَلَا يَنْزِعُ شَعَرًا

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں انس ۲؎،عبداللہ بن بحینہ ۳؎ اور جابر رضی اللہ عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو پچھنا لگوانے کی اجازت دی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ وہ بال نہیں منڈا ئے گا،۴-مالک کہتے ہیں کہ محرم پچھنا نہیں لگواسکتا،الایہ کہ ضروری ہو،۵-سفیان ثوری اور شافعی کہتے ہیں: محرم کے پچھنالگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بال نہیں اتارسکتا۔