Jamia al-Tirmidhi Hadith 885 (سنن الترمذي)
[885] إسنادہ ضعیف
ابو داود (1922،1935) ابن ماجہ (3010)
سفیان الثوري مدلس وعنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِعَرَفَةَ فَقَالَ ہَذِہِ عَرَفَةُ وَہَذَا ہُوَ الْمَوْقِفُ وَعَرَفَةُ كُلُّہَا مَوْقِفٌ ثُمَّ أَفَاضَ حِينَ غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَجَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِہِ عَلَی ہِينَتِہِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَلْتَفِتُ إِلَيْہِمْ وَيَقُولُ يَا أَيُّہَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ ثُمَّ أَتَی جَمْعًا فَصَلَّی بِہِمْ الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَيْہِ وَقَالَ ہَذَا قُزَحُ وَہُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّہَا مَوْقِفٌ ثُمَّ أَفَاضَ حَتَّی انْتَہَی إِلَی وَادِي مُحَسِّرٍ فَقَرَعَ نَاقَتَہُ فَخَبَّتْ حَتَّی جَاوَزَ الْوَادِيَ فَوَقَفَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ ثُمَّ أَتَی الْجَمْرَةَ فَرَمَاہَا ثُمَّ أَتَی الْمَنْحَرَ فَقَالَ ہَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًی كُلُّہَا مَنْحَرٌ وَاسْتَفْتَتْہُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمٍ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَدْرَكَتْہُ فَرِيضَةُ اللہِ فِي الْحَجِّ أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْہُ قَالَ حُجِّي عَنْ أَبِيكِ قَالَ وَلَوَی عُنُقَ الْفَضْلِ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللہِ لِمَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ قَالَ رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنْ الشَّيْطَانَ عَلَيْہِمَا ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ احْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ وَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ ثُمَّ أَتَی الْبَيْتَ فَطَافَ بِہِ ثُمَّ أَتَی زَمْزَمَ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَنْہُ لَنَزَعْتُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشٍ وَقَدْ رَوَاہُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الثَّوْرِيِّ مِثْلَ ہَذَا وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَةَ فِي وَقْتِ الظُّہْرِ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِذَا صَلَّی الرَّجُلُ فِي رَحْلِہِ وَلَمْ يَشْہَدْ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ إِنْ شَاءَ جَمَعَ ہُوَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِثْلَ مَا صَنَعَ الْإِمَامُ قَالَ وَزَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ ہُوَ ابْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْہِ السَّلَام
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عرفات میں قیام کیا اور فرمایا: یہ عرفہ ہے،یہی وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے،عرفہ (عرفات) کاپوراٹھہر نے کی جگہ ہے،پھر آپ جس وقت سورج ڈوب گیا تووہاں سے لوٹے۔اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھایا،اورآپ اپنی عام رفتارسے چلتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے،اور لوگ دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے،آپ ان کی طرف متوجہ ہوکرکہتے جاتے تھے: لوگو! سکون ووقار کولازم پکڑو،پھر آپ مزدلفہ آئے اورلوگوں کو دونوں صلاتیں(مغرب اورعشاء قصرکرکے) ایک ساتھ پڑھائیں،جب صبح ہوئی توآپ قزح ۱؎ آکرٹھہرے،اور فرمایا: یہ قزح ہے اوریہ بھی موقف ہے اورمزدلفہ پورا کاپورا موقف ہے،پھرآپ لوٹے یہاں تک کہ آپ وادی محسر ۲؎ پہنچے اور آپ نے اپنی اونٹنی کو مارا تو وہ دوڑی یہاں تک کہ اس نے وادی پارکرلی،پھر آپ نے وقوف کیا۔اورفضل بن عباس رضی اللہ عنہا کو(اونٹنی پر) پیچھے بٹھایا،پھرآپ جمرہ آئے اور رمی کی،پھر منحر (قربانی کی جگہ) آئے اور فرمایا: یہ منحر ہے،اور منیٰ پورا کاپورا منحر(قربانی کرنے کی جگہ) ہے،قبیلہ خثعم کی ایک نوجوان عورت نے آپ سے مسئلہ پوچھا،اس نے عرض کیا: میرے والدبوڑھے ہوچکے ہیں اور ان پر اللہ کا فریضہ حج واجب ہوچُکاہے۔کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں توکافی ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں،اپنے باپ کی طرف سے حج کرلے۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپﷺ نے فضل کی گردن موڑدی،اس پر آپ سے،عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول!آپ نے اپنے چچازاد بھائی کی گردن کیوں پلٹ دی؟ توآپ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں جوان ہیں تومیں ان دونوں کے سلسلہ میں شیطان سے مامون نہیں رہا۳؎،پھر ایک شخص نے آپ کے پاس آکرکہا: اللہ کے رسول! میں نے سرمنڈا نے سے پہلے طواف افاضہ کرلیا۔آپ نے فرمایا: سرمنڈوالو یابال کتروالو کوئی حرج نہیں ہے۔پھرایک دوسرے شخص نے آکرکہا: اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی،آپ نے فرمایا: رمی کرلو کوئی حرج نہیں ۴؎ پھر آپ بیت اللہ آئے اور اس کا طواف کیا،پھر زمزم پرآئے،اور فرمایا: بنی عبدالمطلب! اگریہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہیں مغلوب کردیں گے تو میں بھی (تمہارے ساتھ) پانی کھینچتا۔(اورلوگوں کوپلاتے) امام ترمذی کہتے ہیں:۱-علی رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ہم اسے علی کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔یعنی عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش کی سند سے،اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ثوری سے اسی کے مثل روایت کی ہے،۲-اس باب میں جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے،۳-اہل علم کا اسی پر عمل ہے،ان کا خیال ہے کہ عرفہ میں ظہر کے وقت ظہراورعصرکو ملاکرایک ساتھ پڑھے،۴-اوربعض اہل علم کہتے ہیں: جب آدمی اپنے ڈیرے (خیمے) میں صلاۃ پڑھے اورامام کے ساتھ صلاۃ میں شریک نہ ہو تو چاہے دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ جمع اورقصرکرکے پڑھ لے،جیساکہ امام نے کیاہے۔