Jamia al-Tirmidhi Hadith 927 (سنن الترمذي)
[927] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (3038)
أشعث بن سوار: ضعیف
أبو الزبیر عنعن إن صح السند إلیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْوَاسِطِيُّ قَال سَمِعْتُ ابْنَ نُمَيْرٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا إِذَا حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَكُنَّا نُلَبِّي عَنْ النِّسَاءِ وَنَرْمِي عَنْ الصِّبْيَانِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَقَدْ أَجْمَعَ أَہْلُ الْعِلْمِ عَلَی أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا يُلَبِّي عَنْہَا غَيْرُہَا بَلْ ہِيَ تُلَبِّي عَنْ نَفْسِہَا وَيُكْرَہُ لَہَا رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ حج کیا تو ہم عورتوں کی طرف سے تلبیہ کہتے اور بچوں کی طرف سے رمی کرتے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے،ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں،۲-اہل علم کااس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسراتلبیہ نہیں کہے گا،بلکہ وہ خود ہی تلبیہ کہے گی البتہ اس کے لیے تلبیہ میں آواز بلندکرنامکروہ ہے۔