Jamia al-Tirmidhi Hadith 932 (سنن الترمذي)

[932]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَمَعْنَی ہَذَا الْحَدِيثِ أَنْ لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْہُرِ الْحَجِّ وَہَكَذَا فَسَّرَہُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَمَعْنَی ہَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِيَّةِ كَانُوا لَا يَعْتَمِرُونَ فِي أَشْہُرِ الْحَجِّ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ رَخَّصَ النَّبِيُّ ﷺ فِي ذَلِكَ فَقَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَعْنِي لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْہُرِ الْحَجِّ وَأَشْہُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ لَا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُہِلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي أَشْہُرِ الْحَجِّ وَأَشْہُرُ الْحُرُمِ رَجَبٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ ہَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں سراقہ بن جعشم اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔یہی تشریح شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کی ہے کہ جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے،جب اسلام آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا: ’’عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے‘‘،یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،اور اشہر حج شوال،ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں‘‘،کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں حج کا احرام باندھے،اور حرمت والے مہینے یہ ہیں: رجب،ذی قعدہ،ذی الحجہ اور محرم۔صحابہ کرام وغیر ہم میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں ۱ ؎۔