Jamia al-Tirmidhi Hadith 969 (سنن الترمذي)

[969] إسنادہ ضعیف

ثویر بن أبي فاختہ ضعیف

ولبعض الحدیث شواھد عند أحمد (1/ 97 و 118) وابن ماجہ (1442) وغیرہما

انوار الصحیفہ ص 214

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ ثُوَيْرٍ ہُوَ ابْنُ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ أَخَذَ عَلِيٌّ بِيَدِي قَالَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی الْحَسَنِ نَعُودُہُ فَوَجَدْنَا عِنْدَہُ أَبَا مُوسَی فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْہِ السَّلَام أَعَائِدًا جِئْتَ يَا أَبَا مُوسَی أَمْ زَائِرًا فَقَالَ لَا بَلْ عَائِدًا فَقَالَ عَلِيٌّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّی عَلَيْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّی يُمْسِيَ وَإِنْ عَادَہُ عَشِيَّةً إِلَّا صَلَّی عَلَيْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّی يُصْبِحَ وَكَانَ لَہُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ ہَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ مِنْہُمْ مَنْ وَقَفَہُ وَلَمْ يَرْفَعْہُ وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُہُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ

ابوفاختہ سعید بن علاقہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے میراہاتھ پکڑکرکہا: ہمارے ساتھ حسن کے پاس چلوہم ان کی عیادت کریں گے توہم نے ان کے پاس ابوموسیٰ کو پایا۔توعلی رضی اللہ عنہ نے پوچھا:ابوموسیٰ کیا آپ عیادت کے لیے آئے ہیں؟ یازیارت-شماتت-کے لیے؟ توانہوں نے کہا: نہیں،بلکہ عیادت کے لیے آیاہوں۔اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے: جو مسلمان بھی کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتاہے تو شام تک سترہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔اورجو شام کو عیادت کرتاہے تو صبح تک سترہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-علی رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث کئی اوربھی طرق سے بھی مروی ہے،ان میں سے بعض نے موقوفاً اور بعض نے مرفوعاً روایت کی ہے۔