Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 102 (سنن أبي داود)

[102] إسنادہ ضعیف

عبد اللہ بن وہب المصري مدلس (طبقات ابن سعد: 518/7،الفتح المبین: ص 25) و عنعن

انوار الصحیفہ ص 16

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ الدَّرَاوَرْدِيِّ قَالَ وَذَكَرَ رَبِيعَةُ أَنَّ تَفْسِيرَ حَدِيثِ النَّبِيِّ ﷺ لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللہِ عَلَيْہِ أَنَّہُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ وَيَغْتَسِلُ وَلَا يَنْوِي وُضُوءًا لِلصَّلَاةِ وَلَا غُسْلًا لِلْجَنَابَةِ

جناب ربیعہ (ربیعہ الرای ایک تابعی اور مفتی مدینہ) نے نبی کریم ﷺ کی حدیث ’’جو شخص وضو کے شروع میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں۔“ کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرتا ہے اور وضو سے نماز کی اور غسل سے طہارت کی نیت نہیں کرتا (ایسے شخص کا وضو اور غسل درست نہ ہو گا)۔