Sunan Abi Dawood Hadith 188 (سنن أبي داود)
[188]إسنادہ صحیح
شمائل ترمذی: ح 165 ص 195 مشکوۃ المصابیح (4236)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،عَنْ مِسْعَرٍ،عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،قَالَ: ضِفْتُ النَّبِيَّ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ،فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ،وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِہَا مِنْہُ،قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلَاةِ،قَالَ: فَأَلْقَی الشَّفْرَةَ،وَقَالَ: مَا لَہُ؟ تَرِبَتْ يَدَاہُ! وَقَامَ يُصَلِّ. زَادَ الْأَنْبَارِيُّ: وَكَانَ شَارِبِي وَفَی, فَقَصَّہُ لِي عَلَی سِوَاكٍ،أَوْ قَالَ: أَقُصُّہُ لَكَ عَلَی سِوَاكٍ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کا مہمان ہوا،آپ ﷺ نے (بکری کے) پہلو کے بارے میں فرمایا تو وہ بھونا گیا۔آپ ﷺ نے چھری لی اور اس سے میرے لیے کاٹنے لگے۔(اس اثنا میں) بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ کو نماز کی خبر دی تو آپ ﷺ نے چھری رکھ دی اور فرمایا ’’اسے کیا ہوا ہے،خاک آلود ہوں اس کے ہاتھ!‘‘ اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔انباری نے مزید بیان کیا اور کہا کہ میری (مغیرہ کی) مونچھیں لمبی تھیں تو آپ نے مسواک رکھ کے اوپر سے کاٹ دیں یا یوں کہا ’’مسواک رکھ کر کاٹے دیتا ہوں۔‘‘