Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1899 (سنن أبي داود)

[1899] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2962)

المثنی بن الصباح:’’ضعیف،اختلط بأخرۃ،وکان عابدًا‘‘ (تقریب: 6471) وقال الھیثمي: وضعفہ ا لجمھور (مجمع الزوائد 2/5) وقال: وھو متروک عند الجمھور(مجمع الزوائد 297/4 وانظر 70/5،123،157/4)

ولأصل الحدیث شواھد موقوفۃ

انوار الصحیفہ ص 73

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ قُلْتُ أَلَا تَتَعَوَّذُ قَالَ نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ النَّارِ ثُمَّ مَضَی حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَہُ وَوَجْہَہُ وَذِرَاعَيْہِ وَكَفَّيْہِ ہَكَذَا وَبَسَطَہُمَا بَسْطًا ثُمَّ قَالَ ہَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَفْعَلُہُ

جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا۔جب ہم کعبہ کے پیچھے کی جانب آئے تو میں نے کہا: کیا آپ تعوذ نہیں کرتے۔انہوں نے کہا: ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں دوزخ سے۔پھر چلتے آئے حتیٰ کہ حجر اسود کا استلام کیا اور حجر اسود اور دروازے کے درمیان رک گئے پھر اپنا سینہ اور چہرہ اس پر رکھا،اپنے کلائیوں اور ہاتھوں کو اس طرح کیا اور انہیں خوب پھیلایا۔(یعنی پھیلا کر دکھایا) پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔